جان داری

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - قوی، زورآور، توانا، طاقت ور۔ "تم نے بندر کے غدود لگوائے ہیں ورنہ تم میں یہ جان داری کہاں سے آ گئی۔"      ( ١٩٣٥ء، دودھ کی قیمت، ١٢٩ )

اشتقاق

فارسی زبان سے ماخوذ اسم 'جان' کے ساتھ فارسی مصدر 'داشتن' سے مشتق صیغہ امر 'دار' کے ساتھ 'ی' بطور لاحقہ کیفیت ملانے سے مرکب بنا۔ اردو میں بطور اسم مستعمل ہے۔ ١٧٤٠ء میں "ارشاد السالکین" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - قوی، زورآور، توانا، طاقت ور۔ "تم نے بندر کے غدود لگوائے ہیں ورنہ تم میں یہ جان داری کہاں سے آ گئی۔"      ( ١٩٣٥ء، دودھ کی قیمت، ١٢٩ )